Treatments
Treatments
First Aid Kit
You should make sure that you and your family are prepared to treat common symptoms, injuries, and emergencies. By planning ahead, you can create a well-stocked home first aid kit. Keep all of your supplies in one location so you know exactly where they are when 3 you need them.
The following items are basic supplies. You can get most of them at a pharmacy or supermarket.
Bandages and dressings:
- Adhesive bandages (Band-Aid or similar brand); assorted sizes
- Aluminum finger splints
- Elastic (ACE) bandage for wrapping wrist, ankle, knee, and elbow injuries
- Eye shield, pads, and bandages
- Latex or non-latex gloves to reduce contamination risk
- Sterile gauze pads, non-stick (Adaptic-type, petrolatum or other) gauze and adhesive tape
- Triangular bandage for wrapping injuries and making an arm sling
Home health equipment:
- Blue baby bulb or turkey baster suction device
- Disposable, instant ice bags
- Face mask to reduce wound contamination risk
- First-aid manual
- Hand sanitizer
- Latex or non-latex gloves to reduce contamination risk
- Save-A-Tooth storage device in case a tooth is broken or knocked out; contains a travel case and salt solution
- Sterile cotton balls
- Sterile cotton-tipped swabs
- Syringe, medicine cup, or medicine spoon for giving specific doses of medicine
- Thermometer
- Tweezers, to remove ticks and small splinters
Medicine for cuts and injuries:
- Antiseptic solution or wipes, such as hydrogen peroxide, povidone-iodine, or chlorhexidine
- Antibiotic ointment, such as bacitracin, polysporin, or mupirocin
- Sterile eyewash, such as contact lens saline solution
- Calamine lotion for stings or poison ivy
- Hydrocortisone cream, ointment, or lotion for itching
Be sure to check your kit regularly. Replace any supplies that are getting low or have expired.
Other supplies may be included in a first aid kit. This depends on the area in which you plan to spend time.
Treatments
40 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان اگلی گرمی کی لہر کے لیے تیار رہیں۔
کمرے کے درجہ حرارت کا پانی ہمیشہ آہستہ آہستہ پیئے۔
ٹھنڈا یا برف کا پانی پینے سے پرہیز کریں!
اس وقت ملائیشیا، انڈونیشیا، سنگاپور اور دیگر ممالک "گرمی کی لہر" کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ ہیں کرنا اور نہ کرنا:
1. *ڈاکٹر مشورہ دیتے ہیں کہ جب درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے تو بہت ٹھنڈا پانی نہ پئیں، کیونکہ ہماری چھوٹی خون کی شریانیں پھٹ سکتی ہیں۔*
بتایا گیا کہ ایک ڈاکٹر کا دوست بہت گرم دن سے گھر آیا تھا - اسے بہت پسینہ آ رہا تھا اور وہ خود کو جلدی سے ٹھنڈا کرنا چاہتا تھا - اس نے فوراً ٹھنڈے پانی سے اپنے پاؤں دھوئے... اچانک وہ گر گیا اور اسے ہسپتال لے جایا گیا۔
2. جب باہر کی گرمی 38 ° C تک پہنچ جائے اور جب آپ گھر آئیں تو ٹھنڈا پانی نہ پئیں - صرف گرم پانی ہی آہستہ سے پیئے۔
اپنے ہاتھ یا پیروں کو فوری طور پر نہ دھوئیں، اگر وہ تیز دھوپ کے سامنے آئیں۔ نہانے یا نہانے سے پہلے کم از کم آدھا گھنٹہ انتظار کریں۔
3. کسی نے گرمی سے ٹھنڈا ہونا چاہا اور فوراً نہا لیا۔ شاور کے بعد، شخص کو سخت جبڑے کے ساتھ ہسپتال لے جایا گیا اور اسے فالج کا دورہ پڑا۔
*براہ مہربانی نوٹ کریں:*
گرمی کے مہینوں میں یا اگر آپ بہت تھکے ہوئے ہیں تو فوری طور پر بہت ٹھنڈا پانی پینے سے گریز کریں کیونکہ اس سے رگیں یا خون کی نالیاں تنگ ہو سکتی ہیں جو کہ فالج کا باعث بن سکتی ہیں۔
_*براہ کرم دوسروں تک پھیلائیں!🤲بزم اردو ادبTSTUگروپ🤲*_
First Aid Kit
You should make sure that you and your family are prepared to treat common symptoms, injuries, and emergencies. By planning ahead, you can create a well-stocked home first aid kit. Keep all of your supplies in one location so you know exactly where they are when 3 you need them.
The following items are basic supplies. You can get most of them at a pharmacy or supermarket.
Bandages and dressings:
- Adhesive bandages (Band-Aid or similar brand); assorted sizes
- Aluminum finger splints
- Elastic (ACE) bandage for wrapping wrist, ankle, knee, and elbow injuries
- Eye shield, pads, and bandages
- Latex or non-latex gloves to reduce contamination risk
- Sterile gauze pads, non-stick (Adaptic-type, petrolatum or other) gauze and adhesive tape
- Triangular bandage for wrapping injuries and making an arm sling
Home health equipment:
- Blue baby bulb or turkey baster suction device
- Disposable, instant ice bags
- Face mask to reduce wound contamination risk
- First-aid manual
- Hand sanitizer
- Latex or non-latex gloves to reduce contamination risk
- Save-A-Tooth storage device in case a tooth is broken or knocked out; contains a travel case and salt solution
- Sterile cotton balls
- Sterile cotton-tipped swabs
- Syringe, medicine cup, or medicine spoon for giving specific doses of medicine
- Thermometer
- Tweezers, to remove ticks and small splinters
Medicine for cuts and injuries:
- Antiseptic solution or wipes, such as hydrogen peroxide, povidone-iodine, or chlorhexidine
- Antibiotic ointment, such as bacitracin, polysporin, or mupirocin
- Sterile eyewash, such as contact lens saline solution
- Calamine lotion for stings or poison ivy
- Hydrocortisone cream, ointment, or lotion for itching
Be sure to check your kit regularly. Replace any supplies that are getting low or have expired.
Other supplies may be included in a first aid kit. This depends on the area in which you plan to spend time.
Todo
1۔ روزانہ ایک دیسی لہسن ضرور کھائیں.
2۔ ناشتے میں ابلے ہوئے انڈے کا استعمال لازمی کریں۔
3۔ ناشتے کے وقت ایک سیب کا استعمال کریں۔
4۔ گھی کی روٹی کی بجائے خشک روٹی استعمال کریں۔
5۔ دن میں 12 گلاس پانی ہر صورت پیئں۔
6۔ ایک دن چھوڑ کر تخم ملنگہ یا اسپغول چھلکا کا استعمال کریں۔
7۔ادرک۔ سونف۔ دار چینی۔ پودینہ۔ چھوٹی الائچی۔
تمام چیزیں تھوڑی مقدار میں لیں۔زیادہ نہ لیں۔انکا قہوہ بنا کے ایک ایک کپ پیئں۔ آدھا لیموں ملا لیں۔ایک دن چھوڑ کر ایک دن پیئں۔
8- روزانہ پانچ یا سات کجھوریں کھائیں.
9- صبح کے وقت بھگو کے رکھے ھوئے بادام چھیل کر کھائیں 12 عدد
10- بوتل اور ڈبے والے juices ترک کر دیں۔ بہت نقصان دہ ہیں۔ان کی جگہ گھر میں Fresh juice بنا کر پیئں۔
11- روزانہ اپنے ہاتھ کی ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلووں پر تیل لگا کر سوئیں۔ ناف میں تین قطرے تیل ڈالیں۔ کافی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
12- تلاوت قرآن پاک، پانچ وقت نماز پابندی سے پڑھیں اور جو تھوڑا سا وقت جب بھی ملے اللہ کا ذکر کریں۔
Health Advise
Water
Oil Massage
1۔ ایک خاتون نے لکھا کہ میرے نانا 87 سال کے فوت ہوئے، نہ کمر جھکی، نہ جوڑوں میں درد، نہ سر درد، نہ دانت ختم ، ایک بار باتوں باتوں میں بتانے لگے کہ مجھے ایک سیانے نے مشورہ دیا تھا اس وقت جب میں کلکتہ میں ریلوے لائن پر پتھر ڈالنے کی نوکری کر رہا تھا کہ سوتے وقت اپنے پاؤں کے تلوؤں پر تیل لگا لیا کریں بس یہی عمل میری شفاء اور فٹنس کا ذریعہ ہے۔
2۔ ایک سٹوڈنٹ نے بتایا کہ میری والدہ اسی طرح تیل لگانے کی تاکید کرتی ہیں پھر خود بتایا کہ بچپن میں میری یعنی والدہ کی نظر کمزور ہو گئی تھی جب یہ عمل مسلسل کیا تو میری نظر آہستہ آہستہ بالکل مکمل اور صحت مند ہو گئی۔
3۔ ایک صاحب جو کہ تاجر ہیں نے لکھا میں چترال میں سیرو تفریح کرنے گیا ہوا تھا وہاں ایک ہوٹل میں سویا مجھے نیند نہیں آ رہی تھی میں نے باہر گھومنا شروع کر دیا باہر بیٹھا رات کا وقت بوڑھا چوکیدار مجھے کہنے لگاکیا بات ہے ؟ میں نے کہا نیند نہیں آ رہی ! مسکرا کر کہنے لگا آپ کےپاس کوئی تیل ہے میں نے کہا نہیں وہ گیا اور تیل لایا اور کہا اپنے پاؤں کے تلوؤں پر چند منٹ مالش کریں بس پھر کیا تھا میں خراٹے لینے لگا اب میں نے معمول بنا لیا ہے۔
4۔ میں نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا یہ ٹوٹکہ آزمایا اس سے نیند بہت اچھی آتی ہے اور تھکاوٹ ختم ہو جاتی ہے۔
5۔ مجھے معدے کا مسئلہ تھا پاؤں کو تلوؤں پر تیل کی مالش سے 2 دن میں ہی میرا معدے کا مسئلہ ٹھیک ہو گیا۔
6۔ واقعی! اس عمل میں جادو جیسا اثر ہے میں نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کی اس عمل کی وجہ سے مجھے بہت پر سکون نیند آئی۔
7۔میں یہ ٹوٹکہ تقریباً پچھلے 15 سال سے کر رہی ہوں مجھے اس سے بہت پر سکون نیند آتی ہے میں اپنے چھوٹے بچوں کے پاؤں کے تلوؤں پر بھی تیل سے مالش کرتی ہوں اس سے وہ بہت خوش ہوتے ہیں اور صحت مند رہتے ہیں ۔
8۔میرے پاؤں میں درد رہتا تھا میں نے روزانہ زیتون کے تیل سے رات کو سونے سے پہلے 2 منٹ پاؤں کے تلوؤں کی مالش کرنا شروع کر دی اس عمل سے میرے پاؤں کا درد ختم ہو گیا ۔
9۔ میرے پاؤں میں ہمیشہ سوزش رہتی تھی جب چلتی تھی تو تھکن سے چور ہو جاتی تھے میں نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا یہ عمل شروع کیا صرف 2 دنوں میں میرے پاؤں کی سوزش دور ہو گئی ۔
10۔ رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا ٹوٹکہ دیکھ کر اسے کرنا شروع کر دیا اس سے مجھے بہت سکون کی نیند آتی ہے۔
11۔ زبردست کمال کی چیز ہے۔ پر سکون نیند کیلئے نیند کی گولیوں سے بہتر کام کرتا ہے یہ ٹوٹکہ میں اب روزانہ رات کو پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کر کے سوتی ہوں۔
12۔ میرے دادا حضور کے تلوؤں میں بہت گرما ہٹ و جلن اور سر میں درد رہتا تھا جب سے انہوں نے لوکی کا تیل تلوؤں میں لگانا شروع کیا تکلیف سرے سے دور ہو گئی ۔
13۔میں تھائیرائیڈ کی مریضہ تھی میرے ٹانگوں میں ہر وقت درد رہتا تھا پچھلے سال مجھے کسی نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا یہ ٹوٹکہ بتایا میں مستقل کر رہی ہوں اب میں عموماً پر سکون رہتی ہوں ۔
14۔ میرے پاؤں سن ہو رہے تھے میں چار دن سے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل سے مالش کر رہا ہوں بہت زیادہ فرق ہے ۔
15۔بارہ تیرہ سال پہلے مجھے بواسیر تھی ، میرا دوست مجھے ایک حکیم صاحب کے پاس لے گیا جن کی عمر 90 سال تھی انہوں نے مجھے دوا کے ساتھ ساتھ رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر انگلیوں کے درمیان ، ناخنوں پر اور اسی طرح ہاتھوں کی ہتھیلیوں ، انگلیوں ، کے درمیان اور ناخنوں پر تیل کی مالش کرنے کا مشورہ دیا اور کہا ناف میں چار پانچ قطرے تیل کے ڈال کر سونا ہے میں نے حکیم صاحب کے اس مشورے پر عمل کرنا شروع کر دیا اس سے میرے خونی بواسیر میں کافی حد تک آرام آ گیا اس ٹوٹکے سے میرا قبض کا مسئلہ بھی حل ہو گیا میرے جسم کی تھکاوٹ بھی دور ہو جاتی ہے اور پر سکون نیند آتی ہے اور بقول حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کے ناک کے اندر سرسوں کا تیل لگا کر سونے سے خراٹے آنے بند ہو جاتے ہیں ۔
16۔ پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کایہ ٹوٹکہ میرا آزمودہ ہے۔
17۔ پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کرنے سے مجھے بہت پرسکون نیند آئی ۔
18۔میرے پاؤں اور گھٹنوں میں درد رہتا تھا ۔ جب سے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا ٹوٹکہ پڑھا اب میں یہ روزانہ کرتا ہوں اس سے مجھے پر سکون نیند آتی ہے ۔
19۔مجھے کمر میں بہت درد تھا جب سے میں نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا یہ ٹوٹکہ استعمال کرنا شروع کیا ہے کمر کا درد کم ہوگیا ہے اور اللہ پاک کا شکر ہے بہت اچھی نیند آتی ہے ۔
وہ مغلیہ راز درج ذیل ہے:۔
وہ راز بالکل آسان نہایت مختصر ، ہر جگہ اور ہر شخص کے لئے کرنا بہت آسان ۔کوئی سا بھی تیل سرسوں یا زیتون وغیرہ پاؤں کے تلوؤں اور پورے پاؤں پر لگائیں خاص طور پر تلوؤں پر تین منٹ تک دائیں پاؤں کے تلوے اور تین منٹ بائیں پاؤں کے تلوے پر رات کو سوتے وقت مالش کرنا کبھی نہ بھولیں ، اور بچوں کی بھی اسی طرح مالش ضرور کریں ساری زندگی کا معمول بنا لیں پھر قدرت کا کمال دیکھیں آپ ساری زندگی سر میں کنگھی کرتے ہیں جوتے صاف کرتے ہیں ، تو سوتے وقت پاؤں کے تلوؤں پر تیل کیوں نہیں لگاتے۔
قدیم چینی طریقہ علاج کے مطابق بھی پاؤں کے نیچے 100 کے قریب Acupressure Points (ایکوپریشر پوائنٹ) ہوتے ہیں۔ جن کو دبانے اور مساج کرنے سے بھی انسانی اعضاء صحت یاب ہوتے ہیں۔ اس کو
Foot Reflexogy
کہا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں پاؤں کی مساج تھراپی سے علاج کیا جاتا ہے۔
پلیز ان معلومات کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں
جتنا ہو سکے آگے پہنچائیں انشاءاللہ صدقؑہ جاریہ بن کر ثواب دارین کا باعث بنے گا
Coconut Water
*گرم ناریل کا پانی* ایک کینسر مخالف مادہ خارج کرتا ہے، جو کہ طبی میدان میں کینسر کے موثر علاج میں جدید ترین پیش رفت ہے۔
گرم ناریل کا رس *سسٹس* (Cysts)اور *ٹیومر* (tumor)پر اثر کرتا ہے۔ تمام قسم کے کینسر کے علاج کے لیے بھی ثابت ہے۔
ناریل کے عرق کے ساتھ اس قسم کا علاج صرف مہلک خلیات (cells)کو تباہ کرتا ہے، یہ صحت مند خلیات کو متاثر نہیں کرتا۔
Keel Mohason ka Ilaaj
صاف جِلد ہر مرد و عورت کا خواب ہے، داغ دھبوں اور دانوں سے بھرا چہرہ کسی کو بھی نہیں پسند، کچھ خوش نصیب لوگوں کی جلد قدرتی طور پر صاف ہوتی ہے اور کچھ کو اس کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے جس میں وقت اور پیسے کا ضیاع بھی ہے ۔
جلد کے صاف ہونے میں غذا کا بہت بڑا کردار ہوتاہے، جنہیں ایکنی اور کیل مہاسوں کی شکایت ہو اُن کے لیے کچھ غذاؤں کا استعمال اور کچھ غذاؤں کو ترک کر دینے سے افاقہ ہوتا ہے۔
*جلد کی صحت کے لیے مندرجہ زیل غذاؤں کاا ستعمال لازمی ہے۔*
*مچھلی*
ماہرین غذائیت کے مطابق ’سالمن‘، ’سارڈینز‘ اور ٹونا مچھلی جلد کی صحت کے لیے بہترین غذا ہے، مچھلی میں سوزش کا علاج موجود ہے اور اومیگا 3 پائے جانے کے سبب صحت بخش ہے، اومیگا تھری زخموں کو فوری بھرنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے، 2014ء میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق مچھلی کے استعمال سے ایکنی میں واضح کمی آتی ہے، ایکنی سے جان چھڑانے کے لیے مچھلی یا اومیگا تھری سپلیمنٹس کا استعمال بے حد ضروری ہے۔
*کھیرا، تربوز ، مالٹے*
ماہرین جِلدی امراض کا کہنا ہے کہ کیل مہاسوں سے نجات کے لیے ایسی غذاؤں کا استعمال ضروری ہے جس میں پانی کی بھر پور مقدار ہو، کھیرا ، وٹامن سے بھرپور مالٹے اور تربوز میں بھرپور مقدار میں پانی پایا جاتا ہے جس کو غذامیں شامل کرنے سے پانی کی کمی ، جلد میں نمی اور پی ایچ مناسب مقدار میں افزائش پاتا ہے جس سے چہرہ کھِلا کھِلا اور صاف رہتاہے۔
*کاجو*
خشک میوہ جات کا استعمال مجموعی طور پر صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے، مگر جب بات آئے صاف اسکن کی خواہش کی تو کاجو کا استعمال نہایت مفید ہے، زنک سے بھر پور کاجو اینٹی ان فلامنٹری اور قوت مدافعت بڑھانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے جس کے باعث ہر قسم کی ایکنی کا علاج ممکن ہے ۔
*پروبائیوٹک سے بھر پور غذائیں*
ایکنی سے نجات کے لیے ایسی غذاؤں یعنی دہی، بند گوبھی، پنیر کا استعمال لازمی ہے جن میں پروبائیوٹک موجود ہوتے ہیں، اگر ایکنی کو دنوں میں ختم کرنا چاہتے ہیں تو نہار منہ ایک پیالہ دہی کھانے کو اپنی عادت میں شامل کر لیں۔
مندرجہ ذیل غذاؤں سے پر ہیز لازمی ہے
*تلی ہوئی غذاؤں سے پر ہیز*
کیل مہاسوں اور داغ دھبوں سے جان چھڑانا چاہتے ہیں تو کاربوہائیڈریٹس، مسالے، مرغن غذاؤں اور زیادہ چینی کا استعمال ترک کر دیں۔
*دودھ سے پرہیز*
ایکنی سے نجات کے لئے دودھ کا استعمال ترک کر دیں، کیونکہ اس کے استعمال سے ایکنی میں اضافہ ہوتا ہے اس لیے اس سے پرہیز لازمی ہے۔
Nazar ki Kamzori
*نظر کوکمزوری سے بچانے کے چند طریقے...*
آج کل نظر کی کمزوری ایک عام مسئلہ بن چکی ہے اور کم عمری سے چشمہ لگ جاتا ہے تاہم اگر آپ کوشش کریں تو نظر کو قبل ازوقت یا عمر کے ساتھ آنے والی کمزوری سے تحفظ دے سکتے ہیں اور چشمہ لگانے سے بچ سکتے ہیں اور چشمہ لگانے سے بچ سکتے ہیں۔ یہاں کچھ ایسے ہی نکات دئیے گئے ہیں جو آپ کی آنکھوں کو صحت مند اور بینائی کو مضبوط رکھنے میں مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔
مچھلی کا استعمال
مچھلی اومیگا تھری فیٹی ایسڈزسے بھرپور ہوتی ہے جو آنکھوں کو ڈرائی آئی نامی مرض کے خطرے سے بچانے میں مدد گار جُز ثابت ہوتا ہے۔ اگر آپ کو مچھلی پسند نہیں تو مچھلی کے تیل کے فوائد کو مددنظر رکھتے ہوئے اور ڈاکٹر سے مشورہ کرکے یہ فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔
ہمیشہ گوگلز کا استعمال
جب بھی تیراکی یا لکڑی کا کوئی کام کریں تو گوگلز کو ضرور آنکھوں پر چڑھائیں۔ تیراکی کے لیے آنکھوں کے گوگلز آپکی آنکھوں کو کلوراپن سے بچا سکتے ہیں۔ جبکہ لکڑی کے کام کے دوران یہ ذرات کو آنکھوں میں جانے نہیں دیتے جوقرنیے میں خراش کا باعث بن سکتے ہیں۔
اے سی کی ہواسے گریز
گاڑی میں اے سی کی ہوا کا رخ آنکھوں کی بجائے پیروں کی جانب رکھنے کی عادت ڈالیں ۔ خشک ایئر کنڈیشنڈ ہوائیں اسفنج کی طرح آنکھوں سے نمی کو چوس لیتی ہیں تو کوشش کریں کہ گاڑی کے اے سی سے خارج ہونے والی ہوا کا رخ آپ کے چہرے کی جانب نہ ہو۔ آنکھوں میں بہت زیادہ خشکی قرنیے میں خراشوں اور اندھے پن کا باعث بناسکتی ہے۔
سرخ پیاز کا انتخاب
کھانے کے لیے سرخ پیاز کا استعمال کریں۔ دیگر اقسام کے مقابلے میں اس پیاز میں بلوطین نامی ایک اینٹی آکسیڈنٹ زیادہ مقدار میں ہوتا ہے جو آنکھوں کو موتیے کے مرض سے تحفظ دیتا ہے۔
سن گلاسز کا استعمال
جب بھی گھر سے نکلیں تو سن گلاسز کو پہن لیں۔ اس سے نہ صرف سورج سے خارج ہونے والی سخت شعاعوں کو بلاک کرنے میں مدد ملے گی بلکہ آنکھوں کو ہوا چلنے سے خشک ہونے کے اثرات سے بھی تحفظ ملے گا۔
شکرقندی کا استعمال
وٹامن اے سے بھرپور شکرقندی کو اسکے سیزن میں کثرت سے استعمال کریں۔ یہ رات کی نظر کو بہترکرنے کے لیے بہترین چیز ہے اور بینائی کو دھند لانے سے بچانے میں بھی مدد گار ثابت ہوتی ہے۔
تولیہ الگ کرنا
ہر بار اپنے چہرے کو صاف کرنے کے لیے کم از کم اپنا تولیہ استعمال کریں۔ تولیے کا مشترکہ استعمال سے آنکھوں کے انفیکشن آشوبِ چشم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے بلکہ اگر کوئی اس کا شکار ہو تو یقینی ہوجاتا ہے۔
ہفتے میں دوبار پالک کا استعمال
پالک کو مختلف طریقے سے بناکر کھایا جاسکتا ہے اور یہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا بلکہ اس کا استعمال معمول بنالینے کو یقینی بنائیں۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق پالک میں موجود پروٹین اور آئرن ایسا جزہے جو عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ آنکھوں کے پٹھے میں آنے والی تنزلی اور موتیے کی روک تھام میں مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔
وقفہ ضروری ہے
جب آپ کمپیوٹر پر کام یا کتاب کا مطالعہ کررہے ہوں تو ہر گھنٹے بعد کاالارم لگالیں۔ اسکو یا د دہانی کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنے کام یا کتاب سے نظریں ہٹا کر کسی دور واقع جگہ کو 30 سیکنڈ تک دیکھیں‘ اس طریقے سے آپ کو آنکھوں کی تھکاوٹ اور اس پر پڑھنے والے بوجھ کی روک تھام میں مدد ملے گی۔
بلڈ پریشر پر نظر رکھیں
اپنے بلڈ پریشر کا معائنہ ہر ماہ کریں‘ اگر آپ چاہیں تو بازاروں میں عام ملنے والے بلڈ پریشر کے آلات سے یہ کام گھر پر بھی کرسکتی ہیں‘ اگر پریشر کے بارے میں علم نہ ہوسکے تو نقصان پہنچنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
سر پر ہیٹ یا ٹوپی کا استعمال
سن گلاسز کے ساتھ ایک بڑے ہیٹ یا ٹوپی کو بھی پہننے کی عادت ڈالیں‘ ہیٹ یا ٹوپی سورج کی نقصان دہ الٹروائلٹ شعاعوں کے 50 فیصد اثرات سے تحفظ دیتا ہے اور آنکھوں میں چشمے کے اوپر یا نیچے ان شعاعوں کے 50 فیصد اثرات سے تحفظ دیتا ہے اور آنکھوں میں چشمے کے اوپر یا نیچے سے ان شعاعوں کے پہنچنے کا امکان کم ترین ہوجاتا ہے۔
دماغ کو تحریک دینا
پودینے کے تیل کو اپنے ہاتھ پر مل کر سونگھیں‘ طبی محققین کا کہنا ہے کہ پودینے کا تیل دماغ کے اندر ان لہروں کو بڑھاتا ہے جو ہوشیاری اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو بہتر بناتی ہیں‘ یہ خوشبوئیں دماغ کے پیچیدہ نظام کو تحریک دیتی ہیں اور آنکھوں تک ان کے اثرات جاتے ہیں جن کی مدد سے آپ مدھم روشنی میں زیادہ آسانی سے دیکھنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔
چہل قدمی
ہفتے میں کم از کم چار بار چہل قدمی کی عادت بنالیں‘ مختلف طبی شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ ورزش کو معمول بنالینے سے موتیے کے شکار افراد میں گوشہ چشم کے اندر دباؤ کو کم رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
روزانہ پانی سے آنکھیں دھوئیں
پانی اُبال کر ٹھنڈا کرلیں‘ اس میں نمک ڈال کر شیشے کی بوتل میں محفوظ کرلیں روزانہ اس پانی سے آنکھیں دھوئیں‘ اس کے علاوہ ایسا عمل کرنے سے پٹھوں اور اعصاب کو بھی تقویت ملے گی۔
Sugar
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حکما کے اقوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آجکل شوگر کا مریض عام ہوچکا ہے ۔
ہائی شوگر اور لو شوگر کی کیا علامت ہوتی ہیں
یاد رکھیے خون میں شوگر ہائی ھو یا لو دونوں ہی نقصان دہ ثابت ہیں
گلو کوز جسے عرف عام میں
بلڈ شوگر کھا جاتا ھے
انسانی صحت کے لئے اھم کردار ادا کرتی ھے
اگر بلڈ شوگر کی سطح بلند ہو تو سستی محسوس ہونے لگتی ھے
جبکہ اچانک کمزوری اور دوسری تکالیف کا ب عث بنتی ھے
ذیابطیس کے مریضوں کوتو خاص طور پر اپنے بلڈ شوگر کی کمی وزیادتی ھونے والی سطح پر نظر رکھنی ضروری ہوتی ھے
مگر آپکو کیا معلوم ھے
کہہ لو بلڈ شوگر کا مسءلہ ذیابیطس کے مریضوں سے ہٹ کر بھی ھرفرد میں ہوسکتا ہے
لو بلڈ شوگر کی علامات مختلف ہوتی ہیں
اور ہای بلڈ شوگر کی نشانیاں اس سے مختلف والگ ھوتی ھیں
ان دونوں کی کی علامات سے واقفیت
اس مرض کو پکڑنے سے روکنے میں مدد گار ہوسکتی ہیں
لو بلڈ شوگر کی علامت
✨کمزوری اور کپکپاہٹ محسوس ہونا
✨جلد کا زرد پڑنا اور ٹھنڈ سمیت بدن کا چپچپانا محسوس ہونا
✨چڑاچڑاھٹ الجھن، اور خراب رویہ کا مظاہر ہ
✨دل کی دھڑکن کی رفتار اچانک بڑھ جانا
✨مریض کا ھوش وحواس کھودنیا
یا بیھوش ہوجانا
جب بھی یہ علامات ظاھر ھوں
فورا اس پر قابو پانے کی تیاری کریں ۔
اور کنٹرول کریں
۔۔۔۔۔۔ہای بلڈ شوگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔کی علامات
✨نظر دھند لانا
✨بہت زیادہ پیاس لگنا
خراشیں وزخم ٹھیک نہونا
✨ شدید تھکاوٹ
✨اچانک اور بلاوجہ وزن میں کمی یا اضافہ
✨جلد کے حصوں کی رنگت گھری ہوجانا
احتیاط وپرھیز
روزآنہ صبح کو پیدل چلیں
نوک دار چیز سے چوٹ لگنے سے احتیاط کریں
خوش وخرم رہیں
سردی لگنے سے بچاییں
گرم کپڑے پہنیں تاکہ بدن کو پسینہ آتا رہے
ہلکی ورزش اور گرم پانی سے غسل کریں
اور قبض مطلق نہونے دیں
وہ غذائیں جن میں شکر زیادہ ہے ترک کریں
اطباء کرام سے بھی گذارش ذیابیطس کے مریضوں کے علاج ومعالجہ میں خصوصا شفقت کا معاملہ کریں
Sugar jad se khatam
Nuskha No 1:
100 Almonds=Badam (Koi Kadva na ho
100 Black pepper=Kali Mirch (Pura Dana)
100 Green Cardemom=Sabz Ilaichi (with Shell)
100 Leaf of Neem=Neem ke Patte Dhokar Sukha Len
1 pav Black Gram=Kale Chane bhune huye chhilke ke sath
Ye sab pees kar mix karlen aur din me 1 bar chhota aadha chamcha khayen
Nuskha No 2:
Bhendi ka pani 3 din piyen, Sugar khatm insulin se nejat
3 se 5 din me diabetes se nejat keliye ek mujrab gharelu nuskha pesh khidmat hai, bahut logon ne azmaya aur duain din, 3 pcs Bhediyan lekar unke sire kat den aur har bhendi ko churi se ek ek chira laga den ta ke iske andar jo less hoti hai wo bahar nikalni shuru ho jaye, fir bhindiyon ko sari rat pani ke ek cup me bhigo kar pada rahene den, subah nashta karne ke ek ghante bad bhendiyan cup se nikal den aur pani pi len, bas itna sa kam hai, iske ek ghante bad apni sugar check karen jinki 300 se uper sugar rehti hai wo is pani ko 3 din piyen to kahete hain ke sugar 150 se bhi kam ho jati hai, Bhendi ke pani me insulin ke mujezati khwas hain, is post ko jitna ho sake share karen ta ke zyada se zyada logon ko faida mile.
بھنڈی کا پانی تین دن پیئں، شوگر ختم انسولین سے نجات تین سے پانچ دن میں ذیابیطس سے فوری نجات کیلئے ایک مجرب گھریلو نُسخہ پیش خدمت ہے . بہت لوگوں نے آزمایا اور دُعائیں دیں . تین عدد بھنڈیاں لیکر اُن کے سرے کاٹ دیں، اور ہر بھنڈی کو چھری سے ایک ایک چیرا لگا دیں تاکہ اُس کے اندر جو لیس ہوتی ہے وہ باہر نکلنی شروع ہوجائے. اب بھنڈیوں کوساری رات پانی کے ایک کپ میں بھگو کر پڑا رہنے دیں. صبح ناشتہ کرنے کے ایک گھنٹہ بعد بھنڈیا ں کپ سے نکال دیں اور پانی پی لیں. بس اتنا سا کام ہے اس کے ایک گھنٹے بعد اپنی شوگر چیک کریں. جن کی 300 سے اُوپر شوگر رہتی ہے وہ اس پانی کو تین دن پئیں تو بتاتے ہیں کہ شوگر 150 سے بھی کم ہوجاتی ہے. بھنڈی کے پانی میں انسولین کےمعجزاتی خواص ہیں. اس پوسٹ کو جتنا ہوسکے شئیر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچ سکے
*خطرناک حدتک آوٹ آف کنٹرول شوگر کیلئے زبردست علاج*.
جوحضرات شوگرکی بیماری میں مبتلا ہےوہ حضرات ھمارے اس نسخہ کو پڑھےاور فائدہ اٹھائے یہ نسخہ بہت مفیداور آزمودہ ہے
وھوالشافی
(۱)کلونجی
(۲)گوند کیکر
(۳) تخم سرس
(۴) اندران
ترکیب تیاری سب کو ھم وزن پیس کر فل سائز کیپسول بھرلیں
طریقہ استعمال ایک کیپسول دن میں تین بار
بےشمار لوگوں نے آزمایاہے آپ بھی آزمائے اورفائدہ ضرور لکھکر ھمیں مطلع فرمائے تاکہ آپکے لئے صدقہ جارئہ بنے
Cancer
Cancer
نوٹ:۔ ہمارا مشورہ ہے کہ کسی بھی علاج معالجے کے پروگرام شروع کرنے سے پہلے یا صحت کی دیکھ بھال، غذا یا اپنے طرز زندگی میں کسی ایڈجسٹمنٹ سے پہلے کسی ماہر ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔اپنے ڈاکٹر سے مشاورت کیے بغیر کسی بھی مقررہ ادویات یا علاج سے اپنے آپ کو نہ ہٹائیں۔اوپر فراہم کی گئی معلومات صرف عام معلومات اور تعلیمی مقاصد کیلئے ہے۔
پیاز اور لہسن کے فوائد
کیا واقع پیاز اور لہسن کینسر کے خلاف لڑنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں؟
جیسا کہ آپ سب جانتےہیں کہ تمام قسم کی سبزیاں ہمیں کچھ نہ کچھ فائدہ ضرورپہنچاتی ہیں،لیکن یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہونگے کہ کچھ ایسی سبزیاں بھی ہیں جوکہ ہمیں کینسر جیسی خطرناک جان لیوا بیماریوں سے بچاسکتی ہیں۔سبزیوں کی ایک نسل کوآیلیّم (Alpum) نام دیا گیا ہے،جس میں لہسن،پیازاورپیاز کی دوسری قسمیں مثلاًپہاڑی پیاز،گندنااور ہری پیاز وغیرہ شامل ہیں۔اس نسل میں شامل تمام تر سبزیاں ہمیں کینسرکے خطرے سے محفوط رکھتی ہیں۔
ان سبزیوں میں فلیونیولز (Flavanps)،آرگینوسلفرکمپاؤنڈز (Organosulfur Compounds)،وٹامن - کے (Vitamin-K) اور دیگراہم حیاتی اجزاء پائے جاتے ہیں۔جوکینسر کے خلیات (Cells) کو جسم میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔
ایشیاء پیسیفک جرنل آف کلینیکل اونکولوجی (Asia Pasific Journal of Cpnical Onkpogy) :-
ایک مطالعہ میں صحت وغذائیت کے ماہرین نے آنتوں اور معدے کے کینسر میں مبتلا830 مریضوں اور اس کے برعکس830 صحت مند افراد سے کھانے پینے کی عادات پرایک طویل سوالنامہ پُر کروایا، جس سے یہ معلوم ہواکہ صحت مند افراد اپنے کھانے میں لہسن اور پیاز جیسی سبزیوں کا استعمال کینسر میں مبتلامریضوں کی بہ نسبت کئی زیادہ کرتے تھے۔
چین میڈیکل یونیورسٹی (China Medical University):-
ماہرین نے ایک مطالعہ میں یہ نتیجہ اخذکیا ہے کہ اگرکھانوں میں سبزیوں کی مقدار بڑھا دی جائے توآنتو کے کینسر سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔اسی سلسلے میں یونیورسٹی کے "سینئیرڈاکٹرزہی لی (Dr. Zhi p)" نے کہا ہے کہ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ آیلیّم(Alpum) سبزیوں کازیادہ استعمال معدے کے کینسر سے بچاؤ میں مددگار ہے۔جس میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔
ایک مطالعہ کے مطابق سالانہ 16kg یا روزانہ 50g آیلیّم (Alpum) سبزیوں کا استعمال صحت کیلئے مفید ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سبزیوں کوپکانے سے ان میں موجودغذائیت کم ہوجاتی ہے،تاہم لہسن کا تازہ رس زیادہ فائدہ مند رہے گا۔اسی طرح پیاز کو فرائی کرنے سے اس میں موجوداہم کیمیکل ضائع ہوجاتے ہیں۔بہتر یہی ہے کہ پیاز کو سلاد کے طور پر بھی استعمال کیا جائے۔
پیاز اور لہسن کے پانچ اہم فوائد:-
ان کا استعمال بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتاہے۔
جسم میں چربی کے خلیوں (Cells) کی تشکیل کو کنٹرول کرتا ہے۔
الزایمراور کینسر جیسی خطرناک بیماریوں سے بچاتا ہے۔
جسم میں خون کی روانی کو بہتر بناتا ہے اورخون کو گاڑھا ہونے سے بچاتا ہے۔مزید دل کے دورے کے خطرے کو بھی کم کرتاہے۔
ایل ڈی ایل(خراب)کولیسٹرول کو کم کرتا ہے اورایچ ڈی ایل (اچھے)کولیسٹرول میں اضافہ کرتا ہے۔
عوامل:- ہماری آج کی خواتین کل کی خواتین کے مقابلے میں اپنی صحت اور حسن کی حفاظت کیلئے زیادہ فکر مند ہیں۔ خواتین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ مٹاپا نہ صرف ان کی صحت بلکہ حسن کا بھی دشمن ہے۔ ہر زمانے میں معاشرہ کا دستو ر رہا ہے کہ اعلیٰ طبقہ کا انداز رہن سہن کے طور متو سط اور غریب طبقہ کیلئے باعث کشش رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں طبقات امراء کا ہر انداز آنکھیں بند کر کے بغیر سوچے سجھے اپناتے چلے آئے ہیں۔ ایک دور تھا جب انواع واقسام کے مرغن کھانے صرف بادشاہوں اور امراء کے ستر خوانوں تک محدود نظر آتے تھے ۔ لیکن آہستہ آہستہ یہ انداز متوسط اور غریب گھروں میں بھی نظر آنے لگا ۔ یہی سبب ہے کہ آج ہمارا پورا معاشرہ مرغن چٹ پٹے کھانو ں کا عادی ہو چکا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق مرغن اور مسالے والے کھانے وزن بڑھانے کاسبب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ دور جدید میں ذرائع ابلاغ کی بدولت عورت کی نازک اندامی خوب صورتی کا پیمانہ قرار پائی۔ ان تمام باتوں کا اثر سب سے پہلے اعلیٰ طبقہ کی خواتین نے لیا۔ کیونکہ دیگر خواتین کے مقابلے میں ان اثر انگیز ذرائع تک ان کو رسائی کا بہتر مواقع حاصل تھے۔بلکہ وزن کی زیادتی کے تدارک کیلئے استعمال ہونے والے ذرائع تک ان کو دسترس حاصل تھی۔ پھر آہستہ آہستہ مٹاپے کے منفی اثرات کا شعور عام خواتین میں بھی پروان چڑھنا شروع ہوا بلکہ شعور یا ضرورت سے زیادہ اسے فیشن کا درجہ دے دیا گیا۔ مٹاپا کے اسباب:- مٹاپے کی ایک اہم وجہ وراثت ۔جسم میں چکنائی کم یا زیادہ جزب کرنے کی صلاحیت بعض افراد کو پیدا ئشی طور پر والدین سے ورثے میں ملتی ہے دوسری طرف مرداور عورت میں چکنا ئی جمع کرنے والے اعضاء مختلف ہوتے ہیں۔مردوں میں چکنا ئی کا اضافہ عموماً پیٹ پر ظاہر ہو تا ہے ۔جبکہ خواتین میں کو لہوں، رانوں اور سینے کے حصے زیادہ چکنا ئی جمع کرتے ہیں۔ مٹاپے کا ہم سبب غذائی معمولات اورشعور کی کمی ہے کیونکہ ہمارے یہاں اکثریت کویہ معلوم ہی نہیں کہ مٹاپا صحت ہے یا بیماری ؟ خواتین میں مردوں کے مقابلے میں مٹاپے کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ان کا جسمانی نظام ہے۔ اس سلسلہ میں ہم خواتین کو تین گروپس میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ شادی شدہ ، نوعمریا غیر شادی شدہ ، عمر رسید ہ ، شادی شدہ خواتین بچے کی پیدائش کے بعد اند رونی تبدیلیوں کے باعث مٹاپے کا شکار ہوتی ہیں۔جبکہ غیر شادی شدہ ماہانہ نظام میں خرابی اور عمر رسید ہ ماہانہ نظام بند ہونے کے باعث ۔ اس کے علاوہ جسمانی ، ذہنی اور جزباتی ہیجان میں اضافہ اس کا اہم سبب ہے۔ فلموں ، رسالوں اور ڈراموں کی وجہ سے خواتین کے جزباتی ہیجان میں اضا فہ ہو رہا ہے۔ ان کے سبب ایام متاثر ہو رہے ہیں ۔ انسانی جسم ایک دفعہ مٹاپے کا شکار ہو جائے تو اس کا دُبلا ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر فوری اس رجحان پر قابوپا لیا جائے تو دبلا ہونا آسان ہو جا تا ہے۔ مٹاپا کی اہم وجہ غذا کی زیادتی ہے اور زیادہ کھانے کی وجہ عموماًنفسیاتی ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں زیادہ تر لوگ جن میں خواتین کی اکثریت شامل ہے ذہنی نا آسودگی کا شکار ہیں اور یہ بات نوے فیصد درست ہے۔ کہ اکثر لوگ پریشانی میں زیادہ کھاتے ہیں۔ اگر ذہنی مسائل ، پریشانیاں اور الجھنیں کم ہوں تو مٹا پے پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ خواتین میں غذا یا جسمانی نظام میں خرابی زیادہ معاشرتی روایات مٹاپے کا سبب بنتی ہیں۔ ہماری عورتوں کو جسمانی ورزشوں کے زیادہ موقع میسر نہیں ہیں۔ چنانچہ مٹاپے کا شکار ہونے کے بعد اکثر خواتین وزن میں کمی کیلئے ڈائیٹنگ کرتی ہیں لیکن وہ اس بات سے باخبر ہوتی ہیں۔ کہ ان کیلئے بہتر غذا کیا ہوگی۔ مثال کے طور پر ایک عورت کو گردے کی تکلیف ہے اور دوسری عورت ذیا بیطس کی مریضہ ہے دونوں وزن کم کرنا چاہتی ہیں۔ دونوں کیلئے غذا ئی احتیاط بالکل مختلف ہوگی اور ا س غذا کا تعین کوئی ماہر غذائیت ہی کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آب وہوا اور طرز معاشرت کابھی غذا کا تعین میں اہم کردار ہوتا ہے۔ یہ طے کرنا کہ کیا کھایا جائے اور کیا نہیں تعلیم کے بغیر ناممکن ہے۔ عموماً خواتین شادی کے بعد مٹاپے کا شکار زیادہ ہوتی ہیں ۔ اس کی وجہ شادی نہیں بلکہ زندگی کے معمولات میں تبدیلی ہے وہ ایک نئے گھر میں جاتی ہے۔ جہاں نئے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ نفسیاتی طور پر ان کے ذہن پر منفی اثر پڑتا ہے ۔ وہ اپنے والدین ،بہن ،بھائی کو یاد کر تی ہے اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں ۔ تحقیق کے مطابق انسان ذہنی دباؤ کا شکار ہو تو اس کی خوراک بھی بڑ ھ جاتی ہے۔ ایسے معاملات میں ضروری ہے کہ مریضہ کا نفسیاتی علاج ک جائے ۔ پھر وزن میں کم کی جائے۔ ورزش اور سیر کی ضرورت:- غذا، عمر اور کام کی نوعیت میں توازن نہ رہے تو جسم میں پھیلنا شروع ہو جاتا ہے۔ مر اور خواتین دونوں میں عموماً 40 برس کے بعد بدن پھیلتا ہے ۔ سبب یہ ہے کہ غذائی ضرورت کم ہو جاتیں ہیں۔ کیو کہ اس عمر میں جسم بن چُکا ہوتا ہے۔ وزن کی زیادتی کی دوسری وجہ مشقت کا کم کرنا ہے۔ ہماری زندگی بہت آسودہ ہو گئی ہے ۔ پیدل چلنا زندگی سے نکل گیا ہے۔ دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کا کام تو بیٹھنے کا ہے۔ مگر ذرا ذرا سے کام کیلئے چپڑاسی کی مددلی جاتی ہے۔ گھریلوں خواتین بھی زیادہ محنت طلب کام نہیں کرتیں۔ اعلیٰ گھرانے کی خواتین کے علاوہ متوسط گھرانوں کی خواتین بھی اپنی معمولی گھریلوں کام کاج کیلئے نوکرانیوں کی مدد حاصل کرتی ہیں۔ ورزش اور چہل قدمی کا کوئی تصور نہیں ، یہی وجہ ہے کہ اکثر خواتین کے جسم بھاری نظر آتے ہیں ۔ اس کے علاوہ خواتین سوتی بہت زیادہ ہیں۔ ایسے میں چکنا ئی والے یا میٹھے اجزا سوائے جسم میں چربی بنانے کے کوئی دوسرا کام نہیں کرتے ۔ یہ چربی کی زیادتی ہے کہ دل کے امراض ، شوگر اور ہائی بلڈ پریشر جیسے امراض لگ جاتے ہیں ۔ غذا کا کردار:- توانائی کوئی آسمان سے نازل ہونے والی چیز نہیں ہے اور نہ ہی اسے سپرمارکیٹ سے خریدا جا سکتا ہے۔ صحت مند ی بے شک خدا کی طرف سے ملتی ہے لیکن انسان کو اسے برقرار رکھنے کیلئے جدوجہد بھی کرنی ہوتی ہے اگر جسم کے تمام اجزاء اپنا کام صحیح طریقے سے کر رہے ہوں ۔ فضلت اور زہریلے مادے جسم سے پوری طرح خارج ہو رہے ہیں۔ جسمانی اور ذہنی آرام وسکون کا خیال رکھا جا رہا ہو تو پھر آپکو اپنی صحت سے ہرگز غم نہیں ہونا چاہیے ۔ غرض یہ کہ جسم کی تعبیر و صحت، خوبصورتی اور دلکشی ، قو ت اور حرارے قائم رکھنے میں غذا مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ مٹاپا کا علاج:- وزن کا بہترین طریقہ ڈائیٹنگ نہیں بلکہ غذا کم کرنے کے بجائے ایسی غذا استعمال کی جائے جو جسم کی ضرورت کو پوری تو کرتی ہولیکن وزن نہ بڑھاتی ہے ۔ بھوکا رہنے سے صحت کے دوسرے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ خاص طور پر معدے کے السر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے ، غذا میں سبز پتوں والی سبزیاں ، سلاد ، گندم کی بھوسی اور موٹے اناج استعامل کیے جائیں دالیں چھلکوں کے ساتھ استعمال کی جائیں ۔ایسے پھل کھائے جائیں جو چھلکوں کیساتھ ہے میٹھا ترک کر دیا جائے ۔ خاص طور پر سفید شکر کھانے اور ٹھنڈی بوتلیں سے پرہیز کیا جائے ۔ تازہ تحقیق شوگر سے دانتوں کے گرنے کی بیماری لاحق ہو جاتی ہے۔ چکنائی ہمارے ہاں اتنا بڑا مسئلہ نہیں جتنا میدے کا استعمال ہے میدے سے بنی ہوئی چیزوں کا استعمال کم کریں ۔ غذا کم کی جائے بڑھائی نہ جائے ۔ چینی ڈاکٹروں کاکہنا ہے۔ کہ ہر کھانے سے پہلے ایک پانی کا گلاس پیا جائے اور کھانے کے بعد تقریباً پندرہ منٹ چہل قدمی کرکریں۔ اس کے بعد جڑی بوٹیوں سے بنی چائے پئیں۔ رات کو سونے سے پہلے چوڑی پٹی والی بیلٹ پہن لیں اور ایک گلاس پانی میں چار پانچ گرام سرکہ ڈال کر پیا جائے تو وزن کرم کرنے کیلئے کافی مفید نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ بہترین ورزش یپدل چلنا ہے اگر ہم روزانہ چالیس منٹ پیدل چلیں تو مزید کسی علاج کی ضرورت نہیں۔ مٹاپا دور کرنے کا ایک علاج یوگا کی ورزشش بھی بتا ئی جاتی ہے ۔ یوگا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی سکون کیلئے یوگا مشقوں سے بہتر کوئی طریقہ علاج نہیں ۔ یوگا جسم اور جزبات پر کنٹرول کرنا بھی سکھاتا ہے۔ حالانکہ ذہنی سکون کیلئے نما زسے بہتر دنیا میں کو ئی دوسری چیز نہیں ہے جوانسان کو صحت مند بھی رکھتی ہے اور ذہنی سکون بھی دیتی ہے جسم کی ظاہری خوبصورتی تب تک ممکن نہیں ہے۔ جب تک باطن صاف نہ ہو۔ چنانچہ ضروری ہے۔کہ جسم میں آکسیجن کی مقدار مناسب ، اور خون کی گردش متوازن اور جگر کا فعل درست ہو۔ دبلا ہونے کیلئے جہاں اس بات کی ضرورت ہے کہ کھانا کم کھایا جائے وہاں اس چیز کی اہمیت زیادہ ہے کہ کھانے کی خواہش کو کم کیا جائے۔ سلمنگ سنٹر:- مٹاپا سے نجات کیلئے خواتین وحضرات کا ایک خاص طبقہ سلمنگ سنٹر کا رخ کر رہا ہے ۔ ان سنٹر میں وزن کم کرنے کی مشینیں یا خاص ادویات کے ذریعے کوئی بھی اپنا وزن کم کر سکتا ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ ان چیزوں کو چھوڑتا ہے اس کا وزن دوبارہ بڑ ھ جا تا ہے تیزی سے وزن کم کرنے سے نہ صرف کمزوری پیدا ہو سکتی ہے۔ بلکہ دوسرے نقصانات بھی ہوسکتے ہیں ۔ جو عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ظاہر ہوتے ہیں ۔ ان سلمنگ سنٹرز میں جو ڈائیٹنگ پلان بتایا جاتا ہے اس سے نوجوان لڑکیوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے کیو نکہ یہ عمر نشوو نما والی ہوتی ہے ڈائیٹنگ کے ذریعے نہ صرف نشوونما رک جاتی ہے بلکہ جسم کا توازن بھی بگڑ جاتا ہے ان کو قطعاًڈائیٹنگ نہیں کرنی چاہیے۔ شادی کے بعد ان کو ماں بننا ہوتا ہے اور ماں بننے کے بعد نہ صرف انہیں اپنے بچوں کو دودھ پلانا ہوتا ہے بلکہ اس کی پرورش بھی کرتی ہیں۔ ان تمام کاموں میں توانائی کی ضرورت ہے۔ سلمنگ سنٹرز میں ایسی خواتین کی جلد میں کھنچاؤ کی ورزش کرائی جاتی ہے جن کی کھال وزن کم ہونے کی وجہ سے ڈھیلی ہو جاتی ہے یہ طریقہ درست نہیں ہے بعد میں جسم سے خوبصورتی غائب ہونے لگتی ہے۔ ہلدی میں طاقتور اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی سیپٹیک خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔ہلدی اپنی افادیت اور خصوصیات کے حوالے سے کھانوں میں ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ویسے تو ہر ثقافت اپنے لحاظ سے مصالحے اور جڑی بوٹیوں کا استعمال کرتی ہے جو کہ غذائی اعتبار سے پاور ہاؤس کام کرتی ہیں لیکن ایشائی ممالک میں ہلدی کا استعمال خاص طور پر اپنے کھانے میں کیا جاتا ہے بلکہ یوں کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہلدی کے بغیر کھانا پکانا ادھورا تصور کیا جاتا ہے۔مزے دار کھانوں میں ہلدی کی افادیت اور استعمال سے تو بہت سے لوگ واقف ہوں گے، لیکن صحت اور خوبصورتی کے حوالے سے اس کے کیا کیا ثمرات ہیں آئیے جانتے ہیں۔ جگر کیلئے ہلدی جگر کو صاف کرنے میں معاون سمجھی جاتی ہے، خون کو صاف کرنے اور سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ جگر سے تمام فاسد مادوں کے اخراج کے بعد غیر ضروری چربی کے ذخیرہ کو ختم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اپنے جگر کو صحتمند رکھنے کیلئے اس ڈیٹوکس ڈرنک کا استعمال کریں۔ اجزاء:۔ لیموں کا رس 2 عدد اجوائن کے پتوں کا جوس 5 عدد سیب کا جوس 1 عدد گاجروں کا جوس 4 عدد (چھوٹی) ہلدی 1 چائے کا چمچ ادرک 1/2 انچ کا چھوٹا سا ٹکڑا پودینے کی پتیاں 5 سب اجزاء کو ایک ساتھ اچھی طرح سے مکس کریں اور پی لیں۔ اس جوس میں موجود ہلدی جگر کو صاف کرنے اور جگر کی تمام بیماریوں سے محفوظ رہنے میں مدد دے گی۔ جھڑتے، گرتے، کمزور بالوں کیلئے دودھ 1 کپ ہلدی پاؤڈر 1 چائے کا چمچ شہد 2 چائے کے چمچ ونیلا ایکسٹریکٹ 1/4 چائے کا چمچ ادرک پاؤڈر 1/4 چائے کا چمچ پانی 1/4 کپ 1 چٹکی دار چینی پاؤڈر ، ایک عددلہسن اور ایک الائچی ان سب اجزاء کو ابال آنے تک پکائیں، اور پھر کچھ دیر مزید پکنے دیں اور اس کے بعد چھان کر اس جوس کو پئیں۔ بالوں کو جھڑنے سے روکے گا اور بالوں کی جڑوں کو مضبوط بنائیں گے۔ دانتوں کی سفیدی کیلئے چرمی کا غذ پر ٹوتھ پیسٹ کو پھیلا دیں تھوڑا سا ہلدی کا پاؤڈر ڈالیں اور مکس کرنے کے بعد چرمی کاغذ کو اپنے دانتوں پر رگڑیں اور اس کے بعد پوری رات لگا رہنے دیں، اس کے بعد صبح برش کریں۔ چہرے کے فالتو بالوں کیلئے ہلدی پاؤڈر 2سے 3کھانے کے چمچ دودھ 5 کھانے کے چمچ نمک 1 چٹکی تمام اجزاء کو اچھی طرح مکس کریں اور متاثرہ جگہ پر لگا کر پانچ منٹ تک چھوڑ دیں۔ اسکے بعد ہلکا سا مساج کریں۔ کسی بھی قسم کی الرجی سے بچنے کیلئے سب سے پہلے اپنے ہاتھ پر لگا کر چیک کرنا مت بھولیں۔ زخم کو تیزی سے بھرنے کیلئے ہلدی میں طاقتور اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی سیپٹیک خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔ تھوڑی سی ہلدی کو ایلویرا جیل میں مکس کر کے سن برن (دھوپ سے جھلسنا, Sunburn) یا چھوٹے زخموں پر لگائیں۔، زخم بھرنے کیلئے بہترین ہے۔ مدافعتی نظام کو طاقتور بنانے کیلئے قوت مدافعت کو بڑھانے کیلئے ہلدی کا سوپ بہترین ہے کیونکہ ہلدی میں لپوپولی سیکرائیڈز (LypoPolySacchrides) موجود ہوتے ہیں جوکہ طاقتور اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی وائرل خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔4 کپ سبزیوں کے سوپ یا کسی بھی گوشت کی یخنی میں ایک تازہ ہلدی کی جڑ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ کر ڈال دیں اور 15 منٹ کیلئے پکائیں۔ پکانے کے بعد ہلدی کی جڑ کو نکال دیں اور سوپ سے لطف اٹھائیں۔
Sun Strock
isnsani jism ka andruni darja hararat 41 c par pahunch jay to maut hone ke chances 90% badh jate hain, isiliye zyada garmi se buzurg log bahot zyada mutasar hote hain, isliye zyada ehtiyat se kam len.
Ehtyat:
matan, anda, achar, soda, tez masale, palak, methi wagera na khayen,
kala, nila, maroon, jamni aur gahere color ke kapde na pahene,
intehai garmi ke waqt 9 se sham 6 bina zaruri safar na karen,
namak kam se kam istemal karen,
kale aur pre band jute na pahene.
Karne Wale Kaam:
kaddu, pyaz, arvi, ghyaturi, petha, muli, khira, doodh, desi ghee, sharbat bazuri, balangu aur sharbat badam phalon me tarbuz, kela, khubani aur kharbuze ka istemal karen.
safed, gulabi, sabz aur halke color ke kapdon ka istemal karen,
mumkin to sar aur gardan kisi kapde se zarur dhaken aur goggle istemal karen,
saunf aur ilaichi ka qahva garmi ka behtrin tod hai,
imli aur alu bukhare ka zlal pyas ko kam karta hai,
pani jitna ho sake piyen,
thande pani ki jagah ghade (matke) ka pani piye,
jitni bar ho sake gusl kare,
havadar juta pahene jo kale color ka na ho,
tree lagaye kiyuke tree garmi ki lu aur sardi ki os khinch leta hai,
zarurat par doctor ko bataye.
VitaminK
Khana
جس شرح سے نوجوان گردوں کی بیماری میں مبتلا ہیں وہ تشویش ناک ہے۔ *اس بیماری کی 5 وجوہات ہیں:* *1. ٹوائلٹ جانے میں تاخیر:* اپنے پیشاب کو زیادہ دیر تک اپنے مثانے میں رکھنا ایک برا خیال ہے۔ ایک مکمل مثانہ مثانے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ پیشاب جو مثانے میں رہتا ہے بیکٹیریا کو تیزی سے بڑھا دیتا ہے۔ ایک بار جب پیشاب ureter اور گردوں کی طرف لوٹ جاتا ہے تو ، زہریلے مادے گردے کے انفیکشن ، پھر پیشاب کی نالی کے انفیکشن ، اور پھر ورم گردہ اور یہاں تک کہ یوریمیا کا سبب بن سکتے ہیں۔ جب فطرت بلائے - جتنی جلدی ممکن ہو اسے کریں۔ *2. بہت زیادہ نمک کھانا:* آپ کو روزانہ 5.8 گرام سے زیادہ نمک نہیں کھانا چاہیے۔ *3. بہت زیادہ گوشت کھانا:* آپ کی خوراک میں بہت زیادہ پروٹین آپ کے گردوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ پروٹین ہاضمہ امونیا پیدا کرتا ہے - ایک زہریلا جو آپ کے گردوں کے لیے بہت تباہ کن ہے۔ زیادہ گوشت گردوں کو زیادہ نقصان پہنچانے کے برابر ہے۔ *4. بہت زیادہ کیفین پینا:* کیفین بہت سے سوڈاس اور سافٹ ڈرنکس کا جزو ہے۔ یہ آپ کے بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے اور آپ کے گردوں کو تکلیف ہونے لگتی ہے۔ لہذا آپ کو کوک کی مقدار کم کرنی چاہیے جو آپ روزانہ پیتے ہیں۔ *5. پانی نہ پینا:* ہمارے گردوں کو مناسب طریقے سے ہائیڈریٹ کیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے افعال کو اچھی طرح انجام دے سکیں۔ اگر ہم کافی نہیں پیتے تو ، خون میں ٹاکسن جمع ہونا شروع ہو سکتے ہیں ، کیونکہ گردوں کے ذریعے ان کو نکالنے کے لیے کافی سیال نہیں ہے۔ روزانہ 10 گلاس سے زیادہ پانی پیئے۔ یہ چیک کرنے کا ایک آسان طریقہ ہے کہ کیا آپ پیتے ہیں۔ کافی پانی: اپنے پیشاب کا رنگ دیکھیں ہلکا رنگ ، بہتر. اس پیغام کو اپنے پیاروں کے ساتھ شیئر کریں۔